ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاستی لیجسلیچرمیں کانگریس کا دھرنا چوتھے دن بھی جاری؛ قومی ترنگے کی توہین کرنے والے کو معاف کرنے کا سوال ہی نہیں: ڈی کے شیوکمار

ریاستی لیجسلیچرمیں کانگریس کا دھرنا چوتھے دن بھی جاری؛ قومی ترنگے کی توہین کرنے والے کو معاف کرنے کا سوال ہی نہیں: ڈی کے شیوکمار

Mon, 21 Feb 2022 13:06:38    S.O. News Service

بنگلورو،21؍فروری (ایس او نیوز) لال قلعہ پر زعفرانی پرچم لہرانے کا اعلان کرنے والے ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا کے خلاف کانگریس کی طرف سے ریاستی اسمبلی اور کونسل  میں جاری دھرنا چوتھے دن بھی جاری رہا ۔کانگریس قائدین نے تیسری رات بھی اسمبلی اور کونسل  کے صحن میں گزاری اور اعلان کیا کہ پیر کے روز جب اجلاس شروع ہوگا اس وقت بھی ان کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اتوار کی صبح اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارمیا نے ودھان سودھا کے باہر واکنگ کی اور مرکز اقتدار کے اردگر صاف صفائی کا جائز لیا۔ 

دوسری طرف کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار نے اسمبلی کے نائب اپوزیشن  لیڈر یو ٹی قادر، ڈاکٹر رنگا ناتھ، سلیم احمد ، پرکاش راتھوڑ اور دیگر کانگریس قائدین کے ساتھ ودھان سودھا کے احاطہ میں واکنگ کی ۔ سدارامیا نے ودھان سودھا کے احاطے میں گندگی دیکھ کر کہا کہ اس پر وہ چیف سکریٹری روی کمار کو متوجہ  کروائیں گے۔ 

دوسری طرف راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھرگے نے اتوار کے روز اسمبلی پہنچ کر سدارامیا اور ڈی کے شیو کمار سمیت احتجاج کرنے والے اراکین اسمبلی و کونسل سے ملاقات کی اور ایشورپا کو بچانے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے جس طرح کی بے شرمی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، اس کی مذمت کی اور کہا کہ لال قلعہ جہاں ہمہ وقت ملک کا قومی پرچم لہراتا رہتا ہے، اس مقام پر زعفرانی پرچم لہرانے کا اعلان کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہے، اس کی جس قد ربھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشورپا کی ملک دشمنی کے خلاف کانگریس نے جو احتجاج کیا ہے وہ اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ شیوکمار نے کہا کہ ایشورپا کو معاف کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ کوئی اگر قتل کردے اور بعد میں معذرت کر لے تو اس کو کیسے معاف کیا جاسکتا ہے۔ اس دوران بتایا جاتا ہے کہ کانگریس اعلیٰ کمان سدارامیا اور شیوکمار کو دہلی طلب کیا گیا ہے ۔ شیو کمار نے کہا کہ پارٹی کے نئے عہدیداروں سے وہ دہلی میں سدارامیا  کے ہمراہ ملاقات کریں گے۔ 

کمار سوامی کے اس بیان  پر کہ اس ملک کو آزادی کانگریسیوں کی وجہ سے  نہیں ملی، شیوکمار نے کہا کہ کمارسوامی بہت بڑے آدمی ہیں، بار بار وہ اپنے عملی خزانے سے نئے نئے انکشافات کرتے ہی رہتے ہیں، اس پر وہ تبصرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا  بیان دینے سے پہلے کمار سوامی کو ایک بار اپنے والد کے ساتھ بیٹھ کر ان سے دریافت کر لینا چاہئے کہ اس بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ایشورپا کے خلاف کارروائی کر کے انہیں وزارت سے برطرف کرنا چاہئے۔ اس وقت تک کانگریس کی طرف سے اسمبلی میں احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو حب الوطنی اور ایشورپا میں سے کسی ایک  کا انتخاب کرلینا چاہئے جس کے بعد وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوجاے گی۔ وزیر اعلیٰ کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ان کے لئے اقتدار نہیں بلکہ حب الوطنی مقدم ہے لیکن جس طریقہ سے بومئی ایشورپا کی حمایت کررہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ ان کے لئے اقتدار مقدم ہے۔ 

سدارامیا نے طلبا کو اسکولوں اور کالجوں میں زعفرانی شالوں کی تقسیم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ زعفرانی رنگ قربانی کی علامت ہے، اس کا استعمال سیاست کے لئے کرنا مذہب کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ سندور کے استعمال پر بعض حلقوں سے اعتراضات پر سدارامیا نے کہا کہ سندور اور حجاب دونوں ہی اس ملک کی تہذیب کی نشانی ہے، سندور لگانے سے یا عورت کے حجاب پہننے سے کسی  کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ ہماری تہذیب کو کسی سازش کا شکار ہو کر بدلا نہیں جاسکتا۔ 


Share: